Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
85 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: بچے نے فرمایا: بیشک میں اللّٰہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ 
{قَالَ اِنِّیۡ عَبْدُ اللہِ:بچے نے فرمایا بیشک میں اللّٰہ کابندہ ہوں۔} حضر ت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے لوگوں سے بات کرنا شروع کی اور فرمایا، میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکابندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اگرچہ کلام کرکے اپنی والدہ ماجدہ سے تہمت کو دور کرنا تھا مگر آپ نے پہلے خود کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ قرار دیا تاکہ کوئی اُنہیں خدا اور خدا کا بیٹا نہ کہے کیونکہ آپ کی نسبت یہ تہمت لگائی جانے والی تھی اور یہ تہمت اللّٰہ تعالیٰ پر لگتی تھی، اس لئے منصبِ رسالت کاتقاضا یہی تھا کہ والدہ کی برأ ت بیان کرنے سے پہلے اس تہمت کو رفع فرما دیں جو اللّٰہ تعالیٰ کے جنابِ پاک میں لگائی جائے گی اور اسی سے وہ تہمت بھی اٹھ گئی جو والدہ پر لگائی جاتی کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اس مرتبۂ عظیمہ کے ساتھ جس بندے کو نوازتا ہے، بِالیقین اس کی ولادت اور اس کی فطرت نہایت پاک و طاہر بناتا ہے۔(1)
{اٰتٰىنِیَ الْکِتٰبَ:اس نے مجھے کتاب دی ہے۔} اس کتاب سے انجیل مراد ہے۔ حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا قول ہے کہ آپ والدہ کے پیٹ ہی میں تھے کہ آپ کو توریت کا اِلہام فرما دیا گیا تھا اور جھولے میں تھے جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت عطا کردی گئی اور اس حالت میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا کلام فرمانا آپ کا معجزہ ہے ۔بعض مفسرین نے آیت کے معنی میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ نبوت اور کتاب ملنے کی خبر تھی جو عنقریب آپ کو ملنے والی تھی۔(2)
نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بچپن میں ملنے والے عظیم ترین فضائل:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللّٰہ تعالیٰ نے چار بچوں کو چار چیزوں کے ساتھ فضیلت عطا کی (1)… حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنویں میں وحی کے ساتھ فضیلت دی۔
 (2)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھولے میں کلام کرنے کے ساتھ فضیلت دی۔
 (3)… حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو فہم سے فضیلت دی۔
 (4)… حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بچپن میں نبوت عطا کر کے فضیلت دی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۲۳۴۔
2…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۲۳۴، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۶۷۲، ملتقطاً۔