Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
86 - 695
	 اور سب سے عظیم فضیلت اور سب سے بڑی نشانی وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا کی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ولادت کے وقت سجدہ فرمایا، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سینے کو کشادہ فرمایا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کے وقت حوروں اور فرشتوں کو خادم بنایا اور ولادت سے پہلے ہی عالَمِ اَرواح میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت سے سرفراز فرما دیا اور یہ عظمت و فضیلت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کا خاصہ ہے۔(1)
حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی براء ت میں فرق:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پر بہتان لگا تو ان کی عِفَّت و پاکیزگی خود حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیان فرمائی۔ اب یہاں اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زوجۂ مُطَہّرہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے ساتھ ہونے والا معاملہ ملاحظہ ہو، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :حضرت والد ماجد ’’سُرُورُالْقُلُوْب فِیْ ذِکْرِ الْمَحْبُوْب ‘‘میں فرماتے ہیں ’’حضرت یوسف کودودھ پیتے بچے، اور حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ کی گواہی سے لوگوں کی بدگمانی سے نجات بخشی، اور جب حضرت عائشہ پر بہتان اٹھا، خود ان کی پاک دامنی کی گواہی دی، اور سترہ آیتیں نازل فرمائیں، اگرچاہتا ایک ایک درخت اور پتھر سے گواہی دلواتا، مگر منظور یہ ہوا کہ محبوبۂ محبوب کی طہارت وپاکی پر خود گواہی دیں اور عزت واِمتیاز ان کا بڑھائیں۔(2)
وَّ جَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ ۪ وَ اَوْصٰىنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا ﴿۪ۖ۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۵/۳۳۰۔
2…فتاوی رضویہ، رسالہ: تجلی الیقین، ۳۰/۱۶۹۔