Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
84 - 695
نام تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک نہایت نیک وصالح شخص کانام ہارون تھا اور اس کے تقویٰ اور پرہیز گاری سے تشبیہ دینے کے لیے آپ کوہارون کی بہن کہا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائی ہی ہوں اگرچہ ان کازمانہ بہت بعید تھا اور ایک ہزار سال کا عرصہ ہوچکا تھا مگر آپ ان کی نسل سے تھیں اسی لئے ہارون کی بہن کہہ دیا۔(1)
فَاَشَارَتْ اِلَیۡہِ ؕ قَالُوۡا کَیۡفَ نُکَلِّمُ مَنۡ کَانَ فِی الْمَہۡدِ صَبِیًّا ﴿۲۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا ۔ وہ بولے :ہم اس سے کیسے بات کریں ؟جو ابھی ماں کی گود میں بچہ ہے۔
{فَاَشَارَتْ اِلَیۡہِ:اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا ۔} جب لوگوں نے حضرت مریم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے تفصیل پوچھنی چاہی تو چونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے چپ کاروزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہے تواس بچے سے پوچھ لویہ جواب دے گا۔ اس پر لوگوں کو غصہ آیا اور انہو ں نے کہا کہ جوبچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا! کیا تم ہم سے مذاق کر رہی ہو؟ یہ گفتگوسن کر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور سیدھے ہاتھ مبارک سے اشارہ کرکے بات کرنا شروع کی۔(2)
قَالَ اِنِّیۡ عَبْدُ اللہِ ؕ۟ اٰتٰىنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا ﴿ۙ۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: بچہ نے فرمایا میں ہوں اللّٰہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳/۲۳۳، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۶۷۲، ملتقطاً۔
2…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵/۳۳۰، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳/۲۳۳-۲۳۴، ملتقطاً۔