ہیں : نبی کریم صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صَومِ وصال (یعنی سحری اور افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے) اور چپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔(1)
فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ ؕ قَالُوۡا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْـًٔا فَرِیًّا ﴿۲۷﴾ یٰۤاُخْتَ ہٰرُوۡنَ مَا کَانَ اَبُوۡکِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا ﴿ۚۖ۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اسے گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم بیشک تو نے بہت بڑی بات کی۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر عیسیٰ کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگ کہنے لگے : اے مریم! بیشک تو بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہے۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکارتھی۔
{فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ:پھر عیسیٰ کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا انہیں اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ، جب لوگوں نے حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے ، کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔(2)
{یٰۤاُخْتَ ہٰرُوۡنَ:اے ہارون کی بہن!} حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کوان کی قوم کے لوگوں نے ہارون کی بہن کہا، اس ہارون سے کون مراد ہے اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ہارون حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے بھائی کا ہی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسند امام اعظم، باب العین، روایتہ عن عدی بن ثابت، ص۱۹۲۔
2…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲۷-۲۸، ۳/۲۳۳۔