Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
82 - 695
فَکُلِیۡ وَاشْرَبِیۡ وَقَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنۡسِیًّا ﴿ۚ۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے آج رحمن کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے آج رحمن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔
{فَکُلِیۡ وَاشْرَبِیۡ وَقَرِّیۡ عَیۡنًا:تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے فرمایا گیا کہ آپ کھجوریں کھائیں اور پانی پئیں اور اپنے فرزند حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں، پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں کہ میں نے آج رحمن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اَولیٰ ہے۔(1)
چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہو چکا ہے:
	یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے ، البتہ ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۲۳۳، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۶۷۱-۶۷۲، ملتقطاً۔