Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
81 - 695
عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے لیے آپ کے قریب ایک نہر بنا دی ہے ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یا حضرت جبرئیلعَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ جاری ہو گیا ، کھجور کا درخت سرسبز ہو کرپھل لایا اور وہ پھل پختہ اور رس دار ہو گئے ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس جگہ ایک خشک نہر تھی جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جاری کر دیا اور کھجور کا خشک درخت سرسبز ہو کر پھل دار ہوگیا۔(1)
وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا ﴿۫۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ، وہ تم پر عمدہ تازہ کھجوریں گرائے گا۔
{وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ:اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ۔} حضرت مریم!رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا، سے کہا گیا کہ آپ جس سوکھے تنے کے نیچے بیٹھی ہیں اسے اپنی طرف حرکت دیں تو اس سے آپ پر عمدہ اور تازہ پکی ہوئی کھجوریں گریں گی ۔
	اس سے معلوم ہوا کہ حمل کی حالت میں عورت کے لئے کجھور کھانا فائدہ مند ہے۔ کھجور میں آئرن بہت ہوتا ہے جو بچے کی صحت و تندرستی میں بہت معاون ہوتا ہے، البتہ اس حالت میں کھجوریں اپنی طبعی حالت کو پیشِ نظر رکھ کر ہی کم یا زیادہ کھائی جائیں۔
حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پر اللّٰہ تعالیٰ کی عنایت و کرم نوازی:
	اگر بنظر ِغائر دیکھا جائے تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش کے وقت سے ہی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکواپنی قدرتِ کاملہ کے کئی نظارے دکھا کر تسلی دی کہ دیکھوجوذات تیرے لئے خشک نہر سے پانی جاری کرسکتی ہے اور خشک درخت سے پکی ہوئی کھجوریں ظاہر کرسکتی ہے وہ آئندہ بھی تمہیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گی لہٰذا تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کرامتوں ،عنایتوں ،شفقتوں پر نظر کرو اور غم وپریشانی کا اِظہار مت کرو۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۶۷۱، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳/۲۳۲، ملتقطاً۔