{قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ: کہا:میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا خوفزدہ ہوئیں تواس وقت حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا کہ میں فرشتہ ہوں اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں تمہیں ایک ستھرا اور پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔
آیت’’لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… اللّٰہ تعالیٰ کے مقبول بندے اللّٰہ تعالیٰ کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں، جیسے کسی کوبیٹا دینا در حقیقت اللّٰہ تعالیٰ کا کام ہے لیکن حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں، لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنت دیتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے اَولیاء اولاد دیتے ہیں، وغیرہ۔
(3)… اللّٰہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو اولاد عطا کرنے کی طاقت اور اجازت دیتا ہے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت واجازت سے اولاد عطا بھی کرتے ہیں، جیسے اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکو بیٹا دینے کی طاقت اور اجازت دی اور آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اجازت سے حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بیٹا عطا کیا۔
قَالَتْ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَکُ بَغِیًّا ﴿۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو نہ کسی آدمی نے ہاتھ لگایا نہ میں بدکار ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مریم نے کہا: میرے لڑکا کہاں سے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی آدمی نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔
{قَالَتْ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ:کہا: میرے لڑکا کہاں سے ہوگا؟} حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے جب حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکوبیٹے کی خوشخبری دی توآپ حیران ہوگئیں اور کہنے لگیں: کسی عورت کے ہاں اولاد ہونے کا جو ظاہری سبب