وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوۡا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۟ اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا امْرَاَتَکَ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیۡنَ‘‘(1)
آئے توانہیں فرشتوں کا آنا برا لگا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اورفرشتوں نے کہا: آپ نہ ڈریں اور نہ غمگین ہوں، بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچانے والے ہیں سوائے آپ کی بیوی کے کہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔)
ان تمام آیتوں سے معلوم ہوا کہ فرشتے انبیائِ کرام کی خدمت میں انسانی شکل بشری صورت میں حاضر ہوتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ نور بھی ہوتے تھے، غرضیکہ نورانیت و بشریت ضدیں نہیں۔(2)
قَالَتْ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا ﴿۱۸﴾ قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا ﴿۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولی میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مریم بولی: میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ کہا: میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوںتا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔
{قَالَتْ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنۡکَ:مریم بولی: میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے خَلْوَت میں اپنے پاس ایک بے ریش نوجوان کو دیکھا تو خوفزدہ ہوگئیں اور فرمایا کہ میںتجھ سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تم میں کچھ خدا خوفی ہے تویہاں سے چلے جاؤ۔ اس کلام سے آپ کی انتہائی پاکدامنی اور تقویٰ کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے چیخ کر کسی او ر کو آواز نہ دی بلکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگی تاکہ اس واقعہ کی کسی کو خبر نہ ہو ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عنکبوت:۳۳۔
2…رسائل نعیمیہ، رسالہ نور، ص۷۸-۷۹۔