Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
72 - 695
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی اللّٰہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت ہیں اس لئے جس دن اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعطا کیا اس دن ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا میلاد مناتے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عظمت و شان کے چرچے کرتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دنیا میں تشریف آوری کے دن خوشیاں مناتے ہیں۔
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتْ مِنْ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّا ﴿ۙ۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب وہ اپنے گھر والوں سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی۔ 
{وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ:اور کتاب میں مریم کو یاد کرو۔} اس سے پہلی آیات میں حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان ہوا کہ انہیں بڑھاپے کی حالت میں اور زوجہ کے بانجھ ہونے کے باجود اللّٰہ تعالیٰ نے ایک نیک اور صالح بیٹا عطا فرمایا اور یہ واقعہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے، اب یہاں سے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والا ایک اور انتہائی حیرت انگیز واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ قرآنِ کریم میں حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکا واقعہ پڑھ کر ان لوگوں کو سنائیے تاکہ انہیں ان کا حال معلوم ہو ، جب وہ اپنے گھر والوں سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی اوراپنے مکان میں یا بیت المقدس کی شرقی جانب میں لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خَلْوَت میں بیٹھیں۔(1)
حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی فضیلت:
	مریم کے معنی ہیں عابدہ، خادمہ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہابچپن سے بیت ُالمقدس کی خادمہ تھیں اور وہاں رہ کر اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتی تھیں اور حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے فضائل میں سے ہے کہ قرآنِ کریم میں عورتوں میں سے صرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا نامِ مبارک ذکر کیا گیا ہے، نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی شان کے بارے میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۶۶۹-۶۷۰۔