اور زندہ اٹھائے جانے کے یہ تینوں دن بہت وحشت ناک ہیں کیونکہ ان دنوں میں آدمی وہ دیکھتا ہے جو اِس سے پہلے اُس نے نہیں دیکھا ، اس لئے ان تینوں مَواقع پرانتہائی وحشت ہوتی ہے، تو اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اِکرام فرمایا کہ انہیں ان تینوں مواقع پر امن و سلامتی عطا فرمائی۔(1)
حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: کہ انسان کوتین دنوں میں وحشت کا سامنا ہوتا ہے، جب وہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ماں کے پیٹ سے باہر آکر ایک نئی دنیا کا سامنا کرتا ہے اور وہ جب مرتا ہے توایسی قوم دیکھتاہے جسے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوتا اور جب دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو اپنے آپ کوایک عظیم محشرمیں پائے گا جس کی مثل اس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوان تینوں وقتوں میں امان وسلامتی کا مژدہ دیا۔(2) یاد رہے کہ سلامتی تو یقینا ہر نبیعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حاصل ہے لیکن بطورِ خاص اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بشارت دینا ایک جداگانہ فضیلت رکھتا ہے۔
ولادت کے دن خوشی کرنے اور وفات کے دن غم کا اظہار نہ کرنے کی وجہ:
اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ولادت کے دن ان پر سلام بھیجا،ا س سے معلوم ہو اکہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت کے دن ان پر سلام بھیجنا اللّٰہ تعالیٰ کی سنت ہے، اسی وجہ سے اہلسنّت وجماعت بارہ ربیع الاوّل کے دن اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب اور تمام اَنبیاء کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ولادت کا دن مناتے ہیں اور اس دن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر درود وسلام کی کثرت کرتے ہیں، نظم و نثر کی صورت میںآپ کی شان اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں ۔ فی زمانہ کچھ لوگ اسی آیتِ مبارکہ کو بیان کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وفات کے دن بھی ان پر سلام بھیجا گیا ہے اس لئے تم جس طرح رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے میلاد کا دن خوشی کا اظہار کر کے مناتے ہو اسی طرح ان کی وفات کا دن بھی غم ظاہر کر کے منایا کرو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ مجید میں اپنی نعمت کا چرچا کرنے اور اپنا فضل و رحمت ملنے پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے اور چونکہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بڑی اللّٰہ تعالیٰ کی کوئی نعمت نہیں اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۲۳۰-۲۳۱۔
2…بغوی، مریم، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۱۵۹۔