’’وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(2،3)… آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تکبرکرنے والے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے نافرمان نہیں بلکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عاجزی وانکساری کرنے والے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کرنے والے تھے ۔یہاں جَبّارکے معنی متکبر کے ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جَبّار وہ شخص ہوتاہے جوغصہ میں مارے اور قتل کرے۔(2)
لفظِ’’جَبّار‘‘ کے مختلف معنی:
یاد رہے کہ جبار کا لفظ جب مخلوق کیلئے آئے تو اس کا معنی متکبر ہوتا ہے اور اگر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کیلئے آئے جیسے جبار اس کی صفت ہے تو اس کا معنی بالکل مختلف ہوتا ہے، جیسے ایک معنی ہے: وہ ذات جو اپنی مخلوق پر عالی ہے۔ دوسرا معنی ہے: وہ جو معاملات کو سدھار دیتا ہے ۔ تیسرا معنی ہے: وہ جو اپنے ارادے میں غالب ہے۔ چوتھا معنی ہے: وہ کہ جس کی سلطنت میں اس کے حکم کے سوا کسی کا حکم نہ چل سکے۔ یہ سب معانی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے شایانِ شان ہیں۔
تکبر سے بچنے کی فضیلت اور عاجزی کے فضائل:
یہاں آیت میں بیان ہوا کہ حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتکبر کرنے والے نہیں تھے، اس مناسبت سے تکبر سے بچنے کی فضیلت ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اس حال میں مَرا کہ وہ تین چیزوں سے بَری تھا: تکبر، خیانت اور دَین (قرض)،تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔(3) نیز عاجزی کے فضائل پر مشتمل 3اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں:
(1)…حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ اتنی عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پرنہ فخر کرے نہ کسی پر ظلم کرے۔(4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بنی اسرائیل۲۳۔
2…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۲۳۰۔
3…ترمذی، کتاب السیر، باب ما جاء فی الغلول، ۳/۲۰۸، الحدیث: ۱۵۷۸۔
4…مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ واہل النار، ص۱۵۳۳، الحدیث: ۶۴(۲۸۶۵)۔