کی وجہ سے خشک لکڑی کی طرح سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں۔(1)
یاد رہے کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اس طرح عرض کرنے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت پر کسی عدمِ یقین کا اظہار نہیں تھا بلکہ معلوم یہ کرناتھا کہ بیٹاکس طرح عطا کیا جائے گا، کیا ہمیں دوبارہ جوانی عطاکی جائے گی یااسی عمرمیں بیٹا عطا کیا جائے گا۔
نوٹ:حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ کلام سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 40 میں بھی گزر چکا ہے۔
قَالَ کَذٰلِکَ ۚ قَالَ رَبُّکَ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُکَ مِنۡ قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْـًٔا ﴿۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہ تھا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: ایسا ہی ہے ۔تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے اوپر بہت آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے پیدا کیا حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔
{قَالَ کَذٰلِکَ: فرمایا ایسا ہی ہے۔} حضرت زکریاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عرض کے جواب میں یہاں فرمایا گیا کہ بیٹا اسی حالت میں دیا جائے گا اور یہ میرے اوپر بہت آسان ہے کہ میں بڑھاپے کے عوارض دور کر کے آپ میں جوانوں کی سی قوت و توانائی پیدا کردوں اور آپ کی بیوی کے مرض کو دور کر کے انہیں صحت عطا کر دوں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے آپ کو اس وقت پیدا کر دیا جب آپ کچھ بھی نہ تھے تو جو رب تعالیٰ معدوم کو موجود کرنے پر قادر ہے وہ بڑھاپے میں اولاد عطا فرمانے پر بھی یقینا قادر ہے ۔
قَالَ رَبِّ اجْعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ﴿۱۰﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۸، ۵/۳۱۶-۳۱۷۔