Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
61 - 695
دیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی یہ فضیلت عطا ہوئی کہ ان کی ولادت سے پہلے ہی ان کا نام بتا دیا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو مقام عطا کیا وہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بڑھ کر ہے کہ میثاق کے دن تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی محفل میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تذکرہ فرمایا، انسان کی تخلیق کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اسمِ گرامی کو اپنے نام کے ساتھ عرش کے پایوں پر لکھ دیا اور ان کے اسمِ گرامی کے وسیلے سے جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرفِ قبولیَّت عطا فرمایا، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کے اپنی اولاد میں ہونے کی دعا مانگی اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اسمِ مبارک بتا کر صدیوں پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دنیا میں تشریف آوری کی بشارت دی اور یہ وہ مرتبۂ عُظمیٰ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سوا اور کسی کو عطا نہیں فرمایا۔
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّکَانَتِ امْرَاَتِیۡ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں۔
{قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ:عرض کی:اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب بیٹے کی خوشخبری سنی تو عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا کیونکہ میری بیوی نے اپنی اور میری جوانی کے زمانے میں بچہ نہیں جنا تو اب بڑھاپے کی حالت میں وہ کس طرح جنے گی اور میں بھی بڑھاپے