’’یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ‘‘(1) اے نبی ہم نے تجھے رسول کیا۔
(کہیں ارشاد فرمایا)
’’یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ‘‘(2) اے رسول پہنچا جو تیری طرف اترا ۔
(کہیں ارشاد فرمایا)
’’یٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾ قُمِ الَّیۡلَ‘‘(3) اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے رات میں قیام فرما۔
(کہیں ارشاد فرمایا)
’’یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾ قُمْ فَاَنۡذِرْ‘‘(4) اے جھرمٹ مارنے والے کھڑا ہو ،لوگوں کو ڈر سنا۔
(کہیں ارشاد فرمایا)
’’یٰسٓ ۚ﴿۱﴾ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ‘‘(5)
اے یٰس !،،یا،، اے سردار! مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک تو مُرسَلوں سے ہے ۔
(کہیں ارشاد فرمایا)
’’طٰہٰ ۚ﴿۱﴾ مَاۤ اَنۡزَلْنَا عَلَیۡکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤی‘‘(6)
اے طہ! ،،یا،، اے پاکیزہ رہنما! ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑے ۔
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ جو ان نداؤں اور ان خطابوں کو سنے گا، بِالبداہت حضور سیّد المرسَلین و اَنبیائے سابقین کا فرق جان لے گا۔ ۔۔امام عزّالدین بن عبد السّلام وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں ’’ بادشاہ جب اپنے تمام اُمرا کو نام لے کر پکارے اور ان میں خاص ایک مقرب کو یوں ندا فرمایا کرے : اے مقربِ حضرت، اے نائب ِسلطنت ،اے صاحبِ عزت ، اے سردارِ مملکت! تو کیا (اس بات میں) کسی طرح محلِ رَیب وشک باقی رہے گا کہ یہ بندہ بارگاہِ ِسلطانی میں سب سے زیادہ عزت و وَجاہت والا اور سرکارِ سلطانی کو تمام عَمائد و اَراکین سے بڑھ کر پیارا ہے۔(7)
(3)… اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکویہ فضیلت عطا فرمائی کہ ان کی ولادت سے پہلے ہی ان کا نام رکھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احزاب:۴۵۔ 2…مائدہ:۶۷۔ 3…مزمل:۱،۲۔
4…مدثر:۱،۲۔ 5…یس: ۱-۳۔ 6…طہ:۱،۲۔
7…فتاوی رضویہ،رسالہ: تجلی الیقین، ۳۰/۱۵۴-۱۵۵۔