Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
59 - 695
کا کوئی نہ کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحیٰ ہے ،اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی دوسرا نہ بنایا۔
{یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ:اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔} اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت زکریاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’ اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو آپ کی طلب کے مطابق (آپ کے علم اور آلِ یعقوب کی نبوت کا) وارث ہو گا، اس کا نام یحیٰ ہے اور اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی دوسرا نہ بنایا کہ ا س کا نام یحیٰ رکھا گیا ہو۔(1)
آیت ’’یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ‘‘ سے متعلق تین باتیں:
	یہاں اس آیتِ مبارکہ سے متعلق 3 باتیں قابلِ ذکر ہیں:
(1)… سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 39میں ذکر ہوا کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دعا مانگنے کے بعد فرشتوں نے انہیں حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بشارت دی اور اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشارت دی ، اس کے بارے میں امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ہو سکتا ہے کہ بشارت دو مرتبہ دی گئی ہو یعنی ایک مرتبہ اللّٰہ تعالیٰ نے اور ایک مرتبہ فرشتوں نے بشارت دی ہو۔(2)
(2)…اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کا نام لے کر پکارا، اسی طرح دیگر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بھی قرآنِ مجید میں ان کانام لے کر پکارا گیا ہے، اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’قرآنِ عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے، مگر جہاں محمَّد رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا ہے حضور کے اَوصافِ جلیلہ و اَلقابِ جمیلہ ہی سے یاد کیا ہے (چنانچہ کہیں ارشاد فرمایا)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…جلالین، مریم، تحت الآیۃ: ۷، ص۲۵۴۔
2…تفسیر کبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۷، ۷/۵۱۲۔