Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
58 - 695
پاس سے کسی سبب کے بغیر کوئی ایسا وارث عطا فرما دے جومیرے علم اور آلِ یعقوب کی نبوت کا وارث ہو (یعنی اسے اس قابل بنا دے کہ اس کی طرف وحی کی جا سکے) اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اسے ایسا بنا دے کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے اور تیرے حکم سے راضی ہو۔(1) یاد رہے کہ جس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیٹے کے لیے دعا کی اس وقت آپ کی زوجہ کی عمر تقریباً 70 سال تھی ۔
{وَ اجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا:اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ بنا دے۔} حضرت زکریاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیٹے کے لیے جو دعا کی تھی اس میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کے آخر میں فرمایا تھا کہ اسے اپنا پسندیدہ بندہ بنانا، اس میں بھی کئی راز پوشیدہ تھے ۔ اس میں ہمارے لئے نصیحت یہ ہے کہ جب بھی اولاد کی دعا مانگی جائے تو نیک صالح اولاد کی دعا مانگی جائے ، ورنہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دعا مانگی اور قبول ہوئی اور اولاد مل گئی مگر اسی اولاد نے جینا حرام کردیا ہو۔
سورہِ مریم کی آیت 5اور 6سے حاصل ہونے والی معلومات:
	ان آیاتِ مبارکہ سے یہ چیزیں معلوم ہوئیں:
(1)… حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کانیک صالح بیٹے کے لیے دعاکرنادین کے لیے تھا،نہ کہ کسی دُنْیَوی غرض سے۔
(2)… انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وراثت علم وحکمت ہی ہوتی ہے لہٰذا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا میں اسی وراثت کا ذکر فرمایا ہے۔
(3)…بیٹے کی دعا کرنا سنت ِانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے مگر اس لئے کہ وہ توشۂ آخرت ہو۔ البتہ یہ یاد رہے کہ بیٹی پیدا ہونے پر غم کرنا کفار کا طریقہ ہے۔
یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ ۣاسْمُہٗ یَحْیٰی ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنۡ قَبْلُ سَمِیًّا ﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۵-۶، ص۶۶۸۔