Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
56 - 695
ہے (بوڑھا ہوگیا ہوں) اور اے میرے رب! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔
{قَالَ:عرض کی:} حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا مانگنے کا پورا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر شریف 75 یا 80 سال تک پہنچ چکی تھی مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس اولاد جیسی نعمت نہ تھی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواپنے رشتہ داروں میں سے بھی کوئی ایسا نیک صالح مرد نظر نہیں آتا تھا کہ جوآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات کے بعد اس قابل ہوکہ وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا جانشین بنے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے جودین کی خدمت آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سپرد تھی اس کوانجام دے سکے بلکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے کئی رشتہ دار شریر تھے اور آپ کوخوف تھا کہ کہیں میرے بعد یہ دین میں تبدیلیاں شروع نہ کردیں اسی وجہ سے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت فکرمند رہا کرتے تھے ۔ یہی احساس جب بہت زیادہ بڑھا تو بالآخر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کردی کہ مجھے نیک صالح بیٹا عطا فرما جو تیرا بھی پسندیدہ ہو اور وہ میرے بعد میرا وارث بنے اور دین کی خدمت کرے۔
{اِنِّیۡ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّیۡ:بے شک میری ہڈی کمزور ہوگئی۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی دعا کی ابتدا اس طرح کی کہ اے میرے مولیٰ ! عَزَّوَجَلَّ، تو جانتا ہے کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور بڑھاپے کی کمزوری اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ سب سے مضبوط عُضْوْ ہڈی میں کمزوری آ گئی ہے اور جب یہ کمزور ہو چکی تو باقی اَعضاء کا حال     محتاجِ بیان نہیں اور میرے سرکے بال بھی سفید ہوچکے ہیں ، اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، آج سے پہلے تیری بارگاہ میں مَیں نے جوبھی دعائیں کی ہیں تونے وہ قبول کی ہیں، لہٰذا مجھے امید ہے کہ تومیری یہ دعا بھی قبو ل کرے گا۔(1)
آیت’’رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّیۡ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…جب بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی جائے تو پہلے ان اُمور کو ذکر کیا جائے جن سے دعا مانگنے والے کی عاجزی و اِنکساری کا اظہار ہو۔
(2)…اپنی حاجت عرض کرنے سے پہلے اپنے اوپر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نعمت و رحمت اور لطف و کرم کا ذکر کیا جائے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۴، ص۶۶۷-۶۶۸۔