ترجمۂکنزالایمان: جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب اس نے اپنے رب کو آہستہ سے پکارا ۔
{اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا:جب اس نے اپنے رب کوآہستہ سے پکارا۔} یعنی حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آہستہ آواز میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا مانگی ، مفسرین نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آہستہ آواز میں دعا مانگنے کی چند وجوہات ذکر کی ہیں :
(1)…آہستہ دعا مانگنے میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور دعا مانگنے والا ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے اس لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آہستہ دعا فرمائی ۔
(2)…لوگ اولاد کی دعا مانگنے پر ملامت نہ کریں کیونکہ اس وقت حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمرشریف 75 یا 80 سال تھی ۔
(3)…حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی آوازکمزوری کے باعث آہستہ ہوگئی تھی۔(1)
آہستہ آواز میں دعامانگنے کی فضیلت اوردعا مانگنے کا ایک ادب:
اس آیت میں حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آہستہ دعا مانگنے کا ذکر ہے ،آہستہ دعا مانگنے کی فضیلت کے بارے میں حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’آہستہ آواز میں دعا کرنا 70 بلند آواز کے ساتھ دعاؤں کے برابر ہے۔(2)
نیزاس سے معلوم ہوا کہ آہستہ آواز میں دعا مانگنا دعا کے آداب میں سے ہے۔ اسی ادب کی تعلیم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہآواز سے دعا کرو ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۳، ص۶۶۷، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۲۲۹، ملتقطاً۔
2…مسند الفردوس، باب الدال، ۲/۲۱۴، الحدیث: ۳۰۴۶۔
3…اعراف:۵۵۔