ترجمۂکنزالایمان: یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کھیعص۔ یہ تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔
{کٓہٰیٰعٓصٓ: } یہ حروفِ مُقَطَّعات ہیں،ان کی مراد اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ:یہ تیرے رب کی رحمت کا ذکر ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم آپ کے سامنے جو بیان کررہے ہیں یہ آپ کے ربعَزَّوَجَلَّ کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فرمائی۔(1)
نیک بیٹا اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے:
اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے مراد نیک اور صالح بیٹا عطا فرمانا ہے اور بیٹا عطا فرمانے کے تذکرے کو رحمت ِ الٰہی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے ،اس سے معلوم ہوا کہ نیک اور صالح بیٹا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بڑی رحمت ہے خصوصاً جب کہ بڑھاپے میں عطا ہو۔ یاد رہے کہ نیک اولاد سے جس طرح دنیا میں فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بنتی ہے ، اسی طرح مرنے کے بعد بھی نیک اولاد اپنے والدین کو نفع پہنچاتی ہے ، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اَعمال مُنقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے (1) صدقۂ جاریہ۔ (2) علمِ نافع۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہتی ہے۔(2) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب بھی اللّٰہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا مانگے تو نیک اولاد کی دعا مانگے یونہی اسے چاہئے کہ وہ اپنی موجودہ اولاد کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرے تاکہ جب وہ دنیا سے جائے تو اس کے پیچھے اس کی بخشش کی دعا مانگنے والابھی کوئی ہو۔
اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿۳﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۲۲۸۔
2…مسلم، کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ، ص۸۸۶، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱)۔