Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
49 - 695
سورۂ مریم
 سورۂ مریم کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورئہ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	 اس سورت میں 6 رکوع، 98 آیتیں ، 780کلمے اور 3700 حروف ہیں۔(2)
’’مریم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	اس سورت میں حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’ سورۂ مریم‘‘ رکھا گیا ہے۔
سورۂ مریم سے متعلق اَحادیث:
(1) …جب چند مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو کفارِ مکہ نے تحائف دے کر اپنے دو نمائندے حبشہ بھیجے تاکہ وہ ان مسلمانوں کو وہاں سے واپس لے آئیں جب وہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں پہلے ان مسلمانوں کا مَوقف معلوم کر لوں، چنانچہ مسلمانوں کو جب ا س کے دربار میں بلایا گیا اور حضرت جعفر بن ابو طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس کی گفتگو ہوئی تو اس نے کہا :کیا آپ کے پاس اس کلام کا کوئی حصہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔ حضرت جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ،ہاں ہے، پھر اس کے سامنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سورہ ٔ مریم کی تلاوت کی ، حضرت اُمِّ سلمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! نجاشی سورۂ مریم سن کر اتنا رویا کہ اس کی داڑھی بھیگ گئی اور اس کے دربار میں موجود وہ لوگ جن کے سامنے مَصاحف کھلے ہوئے تھے اتنا روئے کہ ان کے مصاحف بھیگ گئے ،پھر نجاشی نے کہا: بے شک یہ دین اور جو دین حضرت موسیٰ عَلَیْہِ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، تفسیر سورۃ مریم۔۔۔ الخ، ۳/۲۲۸۔
2…خازن، تفسیر سورۃ مریم۔۔۔ الخ، ۳/۲۲۸۔