مستحق نہیں اسے پوجتے ہیں، یہ شدید ظلم ہے اور جوشرک کر کے اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اس کا کوئی مددگار نہیں جو اسے اللّٰہ تعالیٰ کے اُس عذاب سے بچا سکے جس کا یہ شرک کرنے کی وجہ سے مستحق ہوا۔(1)
وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الْمُنۡکَرَ ؕ یَکَادُوۡنَ یَسْطُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِنَا ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکُمْ ؕ اَلنَّارُ ؕ وَعَدَہَا اللہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿٪۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی بدتر ہے وہ آگ ہے اللّٰہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو تم کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی کے آثار دیکھو گے۔ قریب ہے کہ انہیں لپٹ جائیں جو اُن کے سامنے ہماری آیتیں پڑھتے ہیں۔ تم فرمادو: کیا میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہیں اِس سے زیادہ ناپسند ہے؟ وہ آگ ہے۔ اللّٰہ نے کافروں سے اس کا وعدہ کیا ہے اور وہ کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ ہے۔
{وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ: اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جہالت کے ساتھ ساتھ کافروں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے اور قرآنِ کریم انہیں سنایا جاتا ہے جس میں اَحکام کا بیان اور حلال و حرام کی تفصیل ہے تو تمہیں کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی کے آثار واضح طور پر نظر آئیں گے اور غیظ و غضب سے ان کا حال یہ ہو تا ہے کہ جو ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھتے ہیں، انہیں لپٹ جانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرمادیں: کیا میں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۷۱، ص۷۴۸، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۷۱، ۶/۵۹، ملتقطاً۔