Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
47 - 695
وَقَائِدِ الْخَیْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَۃِ اَللّٰہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًایَغْبِطُہُ بِہِ الْاَوَّلُوْنَ وَالآخِرُوْنَ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰہُمَّبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ‘‘(1)
	اور حضور پُر نور صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بشر کہنے میں راہِ سلامت یہ ہے کہ نہ تو آپ کی بشریت کا مُطْلَقاً انکار کیا جائے اور نہ ہی کسی امتیازی وصف کے بغیر آپ کی بشریت کا ذکر کیا جائے بلکہ جب حضورِ اقدس صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بشریت کا ذکر کیا جائے تو آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو افضل البشر یا سیّد البشر کہا جائے یا یوں کہا جائے کہ آپ کی ظاہری صورت بشری ہے اور باطنی حقیقت بشریَّت سے اعلیٰ ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جو یہ کہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہ وَسَلَّمَ کی صورتِ ظاہری بشری ہے (اور) حقیقت ِباطنی بشریت سے ارفع واعلیٰ ہے، یا یہ (کہے) کہ حضور اوروں کی مثل بشر نہیں ،وہ سچ کہتا ہے اور جو مُطْلَقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے،قال تعالٰی
’’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیۡ ہَلْ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا‘‘(2)
تم فرماؤ:میرا رب پاک ہے میں تو صرف اللّٰہ کا بھیجا ہوا ایک آدمی ہوں۔(3)
	تیسری بات یہ کہ قرآنِ کریم میں جا بجا کفار کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ انبیائِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنے جیسا بشرکہتے تھے اور اسی سے وہ گمراہی میں مبتلا ہوئے لہٰذا جس مسلمان کے دل میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کی ادنیٰ رمق بھی باقی ہے ا س پر لازم ہے کہ وہ کفار کا طریقہ اختیار کرنے سے بچے اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنے جیسا بشر سمجھ کر گمراہوں کی صف میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔
{اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ:تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔} یعنی مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں تو جو اپنے ربعَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۱/۴۸۹، الحدیث: ۹۰۶، مسند ابی یعلی، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود، ۴/۴۳۸، الحدیث: ۵۲۴۵، ملتقطاً۔
2…بنی اسرائیل:۹۳۔
3…فتاوی رضویہ، ۱۴/۳۵۸۔