غلاموں کو جائز نہیں کہ ان معاملات میں مداخلت کریں، ان میں اِشتراک کریں اور اسے کھیل بنائیں، بلکہ ہمیں پاسِ ادب کرتے ہوئے خاموشی وسکوت اور تَوَقُّف کرنا لازم ہے ، مالک کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے، اس پر اپنی بلندی و غلبہ کا اظہار کرے، بندے کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے مالک کے سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے، دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں دخل اندازی کرے اور حدِّ ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے، اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں کے پاؤں پھسل جاتے ہیں جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں، اللّٰہتعالیٰ محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔(1)
دوسری بات یہ کہ جسے اللّٰہ تعالیٰ نے فضائلِ جلیلہ اور مَراتبِ رفیعہ عطا فرمائے ہوں، اُس کے ان فضائل و مراتب کا ذکر چھوڑ کر ایسے عام وصف سے اس کا ذکر کرنا جو ہر خاص و عام میں پایا جائے ، اُن کمالات کو نہ ماننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس لئے سلامتی اسی میں ہے کہ فضیلت و مرتبے پر فائز ہستی کا ذکر اس کے فضائل اور ان اوصاف کے ساتھ کیا جائے جن کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز ہے اور یہی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا طریقہ ہے ،جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبرستان میں تشریف لے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ‘‘ بے شک اگر اللّٰہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم اپنے (دینی) بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا ہم آپ کے (دینی ) بھائی نہیں؟ ارشاد فرمایا ’’( دینی بھائی ہونے کے ساتھ تمہاری خصوصیت یہ ہے کہ) تم میرے صحابہ ہو اور ہمارے (صرف دینی) بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔(2)
اسی طرح حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’جب تم رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود بھیجا کرو تو اچھی طرح بھیجا کرو، تمہیں کیا پتہ کہ شاید وہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے پیش کیا جاتا ہو۔ لوگوں نے عرض کی: تو ہمیں سکھا دیجئے ۔آپ نے فرمایا: یوں پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَا تَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَا تِکَ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ اِمَامِ الْخَیْرِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارج النبوت، باب سوم در بیان فضل وشرافت، وصل در ازالۂ شبہات، ۱/۸۳-۸۴۔
2…مسلم، کتاب الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرّۃ والتحجیل فی الوضوئ، ص۱۵۰، الحدیث: ۳۹(۲۴۹)۔