Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
469 - 695
{اَلَمْ تَرَ: کیا تو نے نہ دیکھا۔} اس سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی دن اور رات کو کم زیادہ کرنا ذکر کی گئی اور اب یہاں سے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید دلائل ذکر کئے جا رہے ہیں، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا تو نے نہ دیکھا کہ خشک زمین پر جب اللّٰہ تعالیٰ آسمان سے بارش کا پانی نازل فرماتا ہے تووہ نباتات سے سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ بیشک اللّٰہ تعالیٰ پانی کے ذریعے زمین سے نباتات نکال کر اپنے بندوں پربڑا مہربان ہے اور بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے جو کچھ ان کے دلوں میں آتا ہے اس سے خبردار ہے۔(1)
{لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ: جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا حقیقی مالک وہی ہے اور اِ س ملکیت میں اُس کا کوئی شریک نہیں اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ ہی ہر چیز سے بے نیاز اور اپنے اَفعال و صِفات میںتمام تعریفوں کا مستحق ہے۔(2)
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی الْاَرْضِ وَالْفُلْکَ تَجْرِیۡ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ؕ وَ یُمْسِکُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے بیشک اللّٰہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے تمہارے قابومیں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کو جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بیشک اللّٰہ لوگوں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۶۳، ۸/۲۴۶، جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۲۸۵، ملتقطاً۔
2…جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۲۸۵، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۶۴، ۶/۵۶، ملتقطاً۔