ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ اللّٰہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہی باطل ہے اور اس لیے کہ اللّٰہ ہی بلندی والا،بڑائی والا ہے۔
{ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَ الْحَقُّ: یہ اس لیے ہے کہ اللّٰہ ہی حق ہے۔} یعنی یہ مدد فرمانا اس لیے بھی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہی حق والا ہے تو ا س کا دین حق ہے اور ا س کی عبادت کرنا بھی حق ہے اور مسلمانوں سے چونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے مدد کرنے کا سچا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق ہیں اورمشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہی باطل ہیں اوروہ عبادت کئے جانے کا کوئی حق نہیں رکھتے اور یہ مدد فرمانا اس لیے بھی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ہر چیز پر غالب ہے، اس کی کوئی شبیہ نہیں اورنہ ہی کوئی اس کی مِثل ہے اور وہ کافروں کی منسوب کردہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں اور وہی عظمت و جلال اور بڑائی والا ہے۔(1)
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۫ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً ؕ اِنَّ اللہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ ﴿ۚ۶۳﴾ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِؕ وَ اِنَّ اللہَ لَہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیۡدُ ﴿۶۴﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے آسمان سے پانی اُتارا تو صبح کو زمین ہریالی ہوگئی بیشک اللّٰہ پاک خبردار ہے۔ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللّٰہ ہی بے نیاز سب خوبیوں سراہا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے آسمان سے پانی اتارا تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللّٰہ بڑا مہربان، خبردار ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بیشک اللّٰہ ہی بے نیاز،تمام تعریفوں کامستحق ہے۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیر قرطبی، الحج، تحت الآیۃ: ۶۲، ۶/۶۹-۷۰، الجزء الثانی عشر۔