پر بڑی مہربانی فرمانے والا،رحم فرمانے والا ہے۔
{اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی الْاَرْضِ: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے تمہارے قابومیں کردیا جو کچھ زمین میں ہے۔} یہاں سے اللّٰہ تعالیٰ اپنے ان احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر فرمائے ہیں،چنانچہ آیت کے اس حصے میں ارشاد فرمایا کہ جو کچھ زمین میں ہے اسے اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے قابومیں کر دیا، جیسے پتھر جیسی سخت ترین، لوہے جیسی انتہائی وزنی اور آگ جیسی انتہائی گرم چیز کو تمہارے اختیار میں دے دیا اور جانوروں کو بھی تمہارے لئے مُسَخَّر کر دیا تاکہ تم ان کا گوشت کھا سکو،ان پر سامان وغیرہ لاد سکو، ان پر سواری کر سکو اور ان سے دیگر کام لے سکو۔(1)
ان سب چیزوں کاعملی مشاہدہ ہم اپنی روزمَرہ زندگی میں کرتے رہتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے اونٹ جیسے قوی ہیکل اور گائے جیسے طاقتورجانورکواس طرح لے کرجارہے ہوتے ہیں جیسے وہ بچوں کاکوئی کھلوناہو۔
{وَالْفُلْکَ تَجْرِیۡ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ: اور کشتی کو جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔} آیت کے اس حصے میں دوسرے احسان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ کشتی جو دریا میں اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہے اسے اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے قابو میں دے دیا اور تمہاری خاطر کشتی چلانے کے لئے ہوا اور پانی کو مُسَخَّر کر دیا۔(2)
{وَ یُمْسِکُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ: اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں زمین پر نہ گر پڑے۔} یہاں تیسرے احسان کا ذکر فرمایاکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی قدرت سے آسمان کو روکے ہوئے ہے تاکہ وہ زمین پر گر نہ پڑے اور اس نے لوگوںکو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ ختم نہ ہو جائیں البتہ جب قیامت قائم ہو گی تو اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان گر جائے گا۔آیت کے آخر میں ارشاد فرمایاکہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ لوگوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا،رحم فرمانے والا ہے کہ اس نے ان کے لئے دین و دنیا کی مَنفعتوں کے دروازے کھولے اور طرح طرح کے نقصانوں سے انہیں محفوظ کیا۔(3)
وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَحْیَاکُمْ۫ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیۡکُمْ ؕ اِنَّ الْاِنۡسٰنَ لَکَفُوۡرٌ ﴿۶۶﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۶۵، ۸/۲۴۷۔
2…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۶۵، ۸/۲۴۷۔
3…تفسیر کبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۶۵، ۸/۲۴۸، بیضاوی، الحج، تحت الآیۃ: ۶۵، ۴/۱۳۹، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۳۱۶، ملتقطاً۔