اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا مثل نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کو حسن و صورت میں بھی سب سے اعلیٰ و بالا کیا اور حقیقت و روح و باطن کے اعتبار سے تو تمام انبیاء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )اوصافِ بشر سے اعلیٰ ہیں، جیسا کہ شفاء قاضی عیاض (قاضی عیاض رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’شفاء‘‘) میں ہے اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کے اَجسام و ظواہر تو حدِّ بشریت پر چھوڑے گئے اور اُن کے اَرواح و بَواطن بشریت سے بالا اور مَلاءِ اعلیٰ سے متعلق ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رَحْمَۃُاللّٰہِ عَلَیْہِ نے سورئہ والضُّحیٰ کی تفسیر میں فرمایا کہ آپ کی بشریت کا وجود اصلا ًنہ رہے اور غلبۂ انوارِحق آپ پر علی الدَّوام حاصل ہو۔ بہرحال آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی ذات و کمالات میں آپ کا کوئی بھی مثل نہیں۔ اس آیتِ کریمہ میں آپ کو اپنی ظاہری صورتِ بشریہ کے بیان کا اظہارِ تواضع کے لئے حکم فرمایا گیا، یہی فرمایا ہے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے۔(1)
ترا مسند ِناز ہے عرشِ بریں تِرا محرمِ راز ہے روحِ امیں
تو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے شہا تِرا مثل نہیں ہے خدا کی قسم
سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بشر کہنے سے متعلق 3 اَہم باتیں:
یہاں تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بشر کہنے سے متعلق 3 اَہم باتیں یاد رکھیں:
پہلی بات یہ کہ کسی کو جائز نہیں کہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنے جیسا بشر کہے کیونکہ جو کلمات عزت و عظمت والے اصحاب عاجزی کے طور پر فرماتے ہیں انہیں کہنا دوسروں کے لئے روا نہیں ہوتا۔ حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’واضح رہے کہ یہاں ایک ادب او رقاعدہ ہے جسے بعض اَصفیا اور اہل ِتحقیق نے بیان کیا ہے اور اسے جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر اللّٰہتعالیٰ کی طرف سے کوئی خطاب، عتاب، رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو مثلاً آپ ہدایت نہیں دے سکتے، آپ کے اعمال ختم ہوجائیں گے، آپ کے لئے کوئی شے نہیں، آپ حیاتِ دُنْیَوی کی زینت چاہتے ہیں، اور اس کی مثل دیگر مقامات، یا کسی جگہ نبی کی طرف سے عبدیَّت، انکساری، محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلاً میں تمہاری طرح بشر ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں نہیں جانتا اس دیوار کے اُدھر کیا ہے، میں نہیں جانتا میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، اور اس کی مثل دیگر مقامات۔ ہم امتیوں اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خزائن العرفان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ص۵۶۹۔