سا جاننا، ظاہر بینوں (اور) کور باطنوں کا دھوکا ہے (اور) یہ شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں ۔۔۔ ان کا کھانا پینا سونا یہ افعالِ بشری اس لئے نہیں کہ وہ ان کےمحتاج ہیں، حاشا (یعنی ہر گز نہیں ، آپ تو ارشاد فرماتے ہیں) ’’لَسْتُ کَاَحَدِکُمْ اَنِّیْ اَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ‘‘ میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتاہوں وہ مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ (ت) (بلکہ) ان کے یہ افعال بھی اقامتِ سنت وتعلیمِ امت کے لئے تھے کہ ہر بات میں طریقۂ محمودہ لوگوں کو عملی طور سے دکھائیں ،جیسے ان کا سَہوونِسیان ۔حدیث میں ہے ’’اِنِّیْ لَااَنْسیٰ وَلٰکِنْ اُنْسیٰ لِیَسْتَنَّ بِیْ ‘‘میں بھولتا نہیں بھلایا جاتا ہوں تاکہ حالتِ سہو میں امت کوطریقۂ سنت معلوم ہو۔ عمرو نے سچ کہا کہ یہ قول (اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ) حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے، جس کی حکمت تعلیمِ تواضع، وتانیسِ اُمت، و سدِّغُلُوِّنصرانیت (یعنی عاجزی کی تعلیم،امت کے لئے اُنسیت کا حصول اور عیسائی جیسے اپنے نبی کی شان بیان کرنے میں حد سے بڑھ گئے مسلمانوں کو اس سے روکنا) ہے، اول ،دوم ظاہر، اور سوم یہ کہ مسیح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی امت نے ان کے فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹا کہا ،پھر فضائل ِمحمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّحِیَّۃ کی عظمت ِشان کا اندازہ کون کرسکتا ہے، یہاں اس غلو کے سدِّباب (روکنے) کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو’’ میں تم جیسا بشرہوں خدا یا خدا کابیٹا نہیں، ہاں ’’ یُوْحٰٓی اِلَیَّ‘‘ رسول ہوں، دفعِ اِفراطِ نصرانیت کے لئے پہلا کلمہ تھا اور دفعِ تفریط ِابلیسیَّت کے لئے دوسرا کلمہ، اسی کی نظیر ہے جو دوسری جگہ ارشادہوا
’’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیۡ ہَلْ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا‘‘(1)
تم فرمادو پاکی ہے میرے رب کومیں خدا نہیں،میں تو ا نسان رسول ہوں۔
اِنہیں دونوں کے دفع کوکلمہ ٔشہادت میں دونوں لفظِ کریم جمع فرمائے گئے ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہْ‘‘ میں اعلان کرتا ہوں کہ حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللّٰہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (ت) بندے ہیں خدا نہیں، رسول ہیں خدا سے جدا نہیں، شَیْطَنَت اس کی کہ دوسرا کلمہ امتیازِ اعلیٰ چھوڑ کرپہلے کلمہ تواضع پر اِقتصار کرے۔(2)
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’صورتِ خاصہ میں کوئی بھی آپ (صَلَّی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بنی اسرائیل:۹۳۔
2…فتاوی رضویہ، ۱۴ / ۶۶۲-۶۶۵۔