یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ اس سے تمہیں اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت معلوم ہو کہ اس نے ان جانوروں کو تمہارے قابو میں دیدیا جنہیں لوگوں کے قابو میں دینے پر ا س کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں اور اس بات پر تم اللّٰہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ان جانوروں کو مُسَخَّر کرنے اور ان کے ذریعے تقرب حاصل کرنے کے طریقے کی ہدایت دی اور اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان لوگوں کو اعمال مقبول ہونے کی خوشخبری اور جنت کی بشارت دے دیں جو نیک کام کرنے میں مخلص ہیں۔(1)
حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور ایک حاجی:
یہاں حج سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: میں مکہ مکرمہ کی طرف نکلا تو راستے میں ایک نوجوان کو دیکھا ،جس کا معمول یہ تھا کہ رات کے وقت اپنے چہرے کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہتا:اے وہ ذات ! جو نیکیوں سے راضی ہو تی ہے اور بندوں کے گناہ اسے کوئی نقصان نہیں دیتے ،مجھے ان اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو جائے اور میرے ان اعمال کو بخش دے جن سے تیرا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ پھر جب لوگوں نے اِحرام باندھا اور تَلْبِیَہ پڑھا تو میں نے ا س نوجوان سے کہا:تم تلبیہ کیوں نہیں پڑھتے؟اس نے عرض کی: یا شیخ!پچھلے گناہوں اور لکھ دئیے گئے جرموں کے مقابلے میںتلبیہ کافی نہیں ، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میں لبیک کہوں اور مجھ سے یہ کہہ دیا جائے کہ تیری حاضری قبول نہیں، تیرے لئے کوئی سعادت نہیں ،میں نہ تیرا کلام سنوں گا اور نہ تیری طرف نظر ِرحمت فرماؤں گا۔پھر وہ نوجوان چلا گیا اور اس کے بعد میں نے اسے مِنیٰ میں ہی دیکھا اور اس وقت وہ کہہ رہاتھا:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے بخش دے ،بے شک لوگوں نے قربانیاں کر لیں اور تیری بارگاہ میں نذرانہ پیش کر دیا اور میرے پاس میری جان کے علاوہ اورکوئی چیز نہیں جسے میں تیری بارگاہ میں نذر کروں تو تو میری طرف سے میری جان قبول فرما لے۔پھر اس نوجوان نے ایک چیخ ماری اور اس کی روح قَفسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔(2)
اِنَّ اللہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوۡرٍ ﴿٪۳۸﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ۶/۳۶۔
2…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ۶/۳۶-۳۷۔