Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
443 - 695
ترجمۂکنزالایمان:بیشک اللّٰہ بلائیں ٹالتا ہے مسلمانوں کی بیشک اللّٰہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک اللّٰہ مسلمانوں سے بلائیں دور کرتا ہے ۔ بیشک اللّٰہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔
{اِنَّ اللہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا: بیشک اللّٰہ مسلمانوں سے بلائیں دور کرتا ہے ۔} مشرکوں نے حُدَیْبیہ کے سال سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو حج کرنے سے روک دیاتھا اور جو صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ مکہ مکرمہ میں موجود تھے انہیںوہ طرح طرح کی اَذِیَّتیں اور تکلیفیں دیاکرتے تھے، چنانچہ حج کے لَوازمات اور مَناسِک بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بشارت دی کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں پر آنے والی بلائیں ان سے دور کردے گا اور مشرکوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔(1)
 عزت ونصرت بالآخر مسلمانوں کے لئے ہے:
	علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب اگرچہ خاص ہے لیکن اعتبار الفاظ کے عموم کا ہے ،اس لئے مسلمان اگرچہ بلاؤں اور مصیبتوں وغیرہ سے آزمائے جائیں بالآخر عزت،نصرت اور بڑی کامیابی مسلمانوں کے لئے ہے اور یہ مصیبتیں ان کے گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔(2) خیال رہے کہ نیک اعمال کی برکت سے یا محبوب بندوں کے طفیل اور بارہامحض اپنے کرم سے اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں بھی مسلمانوں سے بلائیں ٹالتا ہے اور آخرت میں بھی ٹالے گا،جیسا کہ قرآنی آیات اور صحیح اَحادیث سے ثابت ہے۔
{اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوۡرٍ:بیشک اللّٰہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ ان کفار کو پسند نہیں فرماتا جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت  اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ انہیں اس عمل پر سزا دے گا۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…البحر المحیط، الحج، تحت الآیۃ: ۳۸، ۶/۳۴۶۔
2…صاوی، الحج، تحت الآیۃ: ۳۸، ۴/۱۳۴۰-۱۳۴۱۔
3…جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۲۸۲، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳/۳۱۰، ملتقطاً۔