بصیرت اور انوارِ قرآن کی وجہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اَبدی سعادت تک رسائی کے لئے علم اور عبادت ضروری ہے،چنانچہ علم والوں کے علاوہ تمام لوگ ہلاک ہونے والے ہیں اور عمل کرنے والوں کے علاوہ تمام علماء ہلاک ہونے والے ہیں اور مخلص لوگوں کے علاوہ تما م عمل کرنے والے بھی ہلاک ہونے والے ہیں جبکہ مخلص لوگوں کو بھی بڑ اخطرہ ہے(کیونکہ انہیں اپنے خاتمے اور اپنے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا علم نہیں) اورنیت کے بغیر عمل محض مشقت اور اخلاص کے بغیر نیت ریاکاری ہے اور یہ منافقت کے لئے کافی اور گناہ کے برابر ہے جبکہ صداقت کے بغیر اخلاص گرد و غبار کے ذرّات ہیں کیونکہ ہر وہ عمل جو اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے ارادے سے کیا جائے اور اس میں نیت خالص نہ ہو تواس کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: ’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔
تو جو شخص نیت کی حقیقت سے واقف نہ ہو ا س کی نیت کیسے صحیح ہو گی؟ یا جس کی نیت درست ہو وہ اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہوئے بغیر مخلص کیسے ہو گا؟ یا وہ شخص جو صداقت کے مفہوم سے آگاہی نہ رکھتا ہو وہ اپنے نفس سے صداقت کا مطالبہ کیسے کرے گا؟ لہٰذا جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کا ارادہ رکھتا ہو اس کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نیت کا علم حاصل کرے تاکہ اسے نیت کی معرفت حاصل ہو ،پھر صداقت اور اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہو کر عمل کے ذریعے نیت کو صحیح کرے کیونکہ بندے کی نجات اور چھٹکارے کا وسیلہ یہی دو باتیں(صداقت اور اخلاص) ہیں۔(2)
نیت ،اخلاص اور صداقت کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تصنیف ’’احیاء العلوم ‘‘(3) کی چوتھی جلد سے ان ابواب کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی معرفت حاصل ہو۔
{کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ:اسی طرح ہم نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے۔}ارشاد فرمایا کہ اسی طرح ہم نے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…فرقان:۲۳۔
2…احیاء علوم الدین، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، ۵/۸۶۔
3…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے احیاء العلوم (مترجم) کی جلد 04 اورجلد 05 ہدیۃً حاصل کر کے مطالعہ فرمائیں۔