Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
440 - 695
کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے بس میں کردیا کہ تم اللّٰہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی اور اے محبوب خوش خبری سناؤ نیکی والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے ۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس بات پر اللّٰہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دیدو۔
{لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا: اللّٰہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون۔}شانِ نزول: دورِجاہلیّت کے کفار اپنی قربانیوں کے خون سے کعبہ معظمہ کی دیواروں کو آلودہ کرتے تھے اور اسے قرب کا سبب جانتے تھے،جب مسلمانوں نے حج کیا اور یہی کام کرنے کا ارادہ کیا تواس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہرگز نہ ان کی قربانیوں کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے اور قربانی کرنے والے صرف نیت کے اِخلاص اور تقویٰ کی شرائط کی رعایت کر کے اللّٰہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں۔(1)
اچھی نیت اور اِخلاص کے بغیر نیک عمل مقبول نہیں:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو نیک عمل اچھی نیت اور ا خلاص کے بغیر کیا جائے وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ۔ نیت و اِخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اہلِ دل لوگوں پر ایمانی 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۷۴۰۔