پہنچے اس پر صبرکرنے والے ہیں اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔
{وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنۡسَکًا:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی۔} یعنی گزشتہ ایماندار اُمتوں میں سے ہر امت کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیں، تو اے لوگو! تمہارا معبود ایک معبود ہے اس لئے ذبح کے وقت صرف اسی کا نام لو اور اسی کے حضور گردن جھکاؤ اور اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرو اور اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔(1)
جانور ذبح کرتے وقت اللّٰہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے:
اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللّٰہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے ہر ایک امت کے لئے مقرر فرما دیا تھا کہ وہ اس کے لئے تَقَرُّب کے طور پر قربانی کریں اور تمام قربانیوں پر صرف اسی کا نام لیا جائے۔(2)
{اَلَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوۡبُہُمْ:وہ لوگ ہیں کہ جب اللّٰہ کا ذکر ہوتا ہے توان کے دل ڈرنے لگتے ہیں۔} یعنی عاجزی کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ا س کی ہیبت و جلال سے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف ان کے اَعضا سے ظاہر ہونے لگتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو مصیبت و مشقت پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز کو ا س کے اوقات میں قائم رکھتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔(3)
وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِاللہِ لَکُمْ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳/۳۰۹، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۷۳۹، ملتقطاً۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۷۳۹۔
3…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۷۴۰، تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۳۵، ۸/۲۲۵، ملتقطاً۔