کا جانور۔ (2) عید کی قربانی کا جانور۔ (3) غلام۔ کیونکہ قربانی میں زیادہ قیمت والا جانور ان کے مالکوں کے نزدیک زیادہ نفیس ہوتا ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (حج کے موقع پر) ایک غیر عربی اونٹ قربانی کے لئے لے گئے ،کسی نے آپ سے وہ اونٹ تین سو دیناروں کے بدلے میں طلب کیا،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ اسے بیچ کر ہلکا جانور خرید لوں تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے آپ کو روک دیا اور ارشاد فرمایا کہ اسی کی قربانی کرو۔
یہ اس لئے فرمایا کہ تھوڑی اور عمدہ چیز زیادہ اور ہلکی چیز سے بہتر ہوتی ہے اور تین سو دیناروں میں تیس اونٹ آ سکتے تھے اور ان میں گوشت بھی زیادہ ہوتا لیکن مقصود گوشت نہیں تھا بلکہ مقصد تو نفس کو بخل سے پاک کرنا اور اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم کے جمال سے مُزَیَّن کرنا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کو ہر گز ان کے گوشت اور خون نہیں پہنچیں گے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، اور یہ مقصد اسی صورت حاصل ہونا ممکن ہے جب قیمت (اور دیگر چیزوں) میں عمدگی کا لحاظ رکھا جائے، تعداد کم ہو یا زیادہ۔(1)
نوٹ: یاد رہے کہ جانور خریدتے وقت قیمت کم نہ کروائی جائے تو بہتر ہے لیکن اس میں یہ ضرور دیکھ لیا جائے کہ وہ جانور اتنی قیمت کا بنتا بھی ہو، ایسا نہ ہو کہ جانور دبلا پتلا ہے اور ا س کی قیمت اتنی بتائی جا رہی ہے کہ عام طور پر ایسا جانور اس قیمت پر نہیں ملتا۔ لہٰذا ایسی صورت میں قیمت کم کروانا درست ہے۔
{فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ:تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے ۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرنا دلوں کے پرہیز گار ہونے کی علامت ہے۔(2)
پرہیز گاری کا مرکز:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ دل پرہیزگاری کا مرکز ہے اور جب دل میں تقویٰ و پرہیز گاری جم جائے گی تو ا س کا اثر دیگر اَعضا میں خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔ حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ شُبہے والی چیزیں ہیں جنہیں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…احیاء علوم الدین، کتاب اسرار الحج، الباب الثالث فی الآداب الدقیقۃ والاعمال الباطنۃ، ۱/۳۵۳۔
2…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۲، ۶/۳۲۔