وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرتمیں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
افسوس! فی زمانہ مسلمانوں میں ایمان کی قدر اور اہمیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور بعض مسلمان دنیا کا نفع، دنیا کی سہولت و آسائش اور دنیا کا مال ودولت حاصل کرنے کی خاطراپنا ایمان ضائع کر دینے کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور چند ٹکوں کے لئے ایمان جیسی قیمتی ترین دولت لٹا دیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں اپنے ایمان کی قدر اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
ذٰلِکَ ٭ وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بات یہ ہے اور جو اللّٰہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بات یونہی ہے اور جو اللّٰہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے ۔
{وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ:اور جو اللّٰہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے۔} یہاں اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں سے کیا مراد ہے ، اس کے بارے میں مفسرین کے تین قول ہیں، (1) اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں میں تمام عبادات داخل ہیں۔ (2) ان سے حج کے مَناسِک مراد ہیں ۔ (3) ان سے بُدنہ یعنی وہ اونٹ اور گائے مراد ہیں جنہیں قربانی کے لئے حرم میں بھیجا جائے اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ فربہ ، خوبصورت اور قیمتی لئے جائیں۔(2)
حج کے موقع پر کیسے جانور کی قربانی دی جائے؟
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حج کے موقع پر جو جانور قربان کیا جائے وہ عمدہ ، موٹا، خوبصورت اور قیمتی ہو۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ ایک قول یہ ہے کہ ا س آیت میں تعظیم سے مراد عمدہ اور موٹے جانور کی قربانی دینا ہے ۔ (لہٰذا قربانی کا جانور خریدنے والے کو چاہئے کہ )اس کی خریداری میں قیمت کم کرنے کے در پے نہ ہو ۔ بزرگانِ دین تین چیزوں میں قیمت زیادہ دیتے تھے اور اس میں کمی کروانے کو پسند نہیں کرتے تھے (1)حج کے موقع پر خریدا جانے والا قربانی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بقرہ: ۲۱۷۔
2…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۳۲، ۸/۲۲۳، جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۲۸۲، ملتقطاً۔