ترجمۂکنزُالعِرفان: ایک اللّٰہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے (بتوں سے دور رہو) اور جو اللّٰہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور کی جگہ پھینک دیتی ہے۔
{حُنَفَآءَ لِلہِ:ایک اللّٰہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر۔} یعنی اے لوگو! تم ایک اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے بتوں کی گندگی سے دور رہو۔
{وَ مَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآ ِٔ:اور جو اللّٰہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا۔} اس آیت میں ایک انتہائی نفیس تشبیہ سے شرک کا برا انجام سمجھایا گیا ہے ، اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص انتہائی بلندی سے زمین پر گر پڑے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ پرندے اس کی بوٹی بوٹی نوچ کر لے جاتے ہیں یا پھر ہوا اس کے اَعضا کو دور کسی وادی میں پھینک دیتی ہے اور یہ ہلاکت کی ایک بد ترین صورت ہے۔ اسی طرح جو شخص ایمان ترک کر کے اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو وہ ایمان کی بلندی سے کفر کی وادی میں گر پڑتا ہے، پھر بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کی طرح نفسانی خواہشات اس کی فکروں کو مُنتَشر کر دیتی ہیں یا ہوا کی طرح آنے والے شیطانی وسوسے اسے گمراہی کی وادی میں پھینک دیتے ہیں اور یوں شرک کرنے والا اپنے آپ کو بد ترین ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔(1)
ایمان کی اہمیت:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان ایسی عظیم چیز ہے جسے اختیار کرنے والا عزت و عظمت کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے اور ایمان کو ترک کرنے والا اور دین ِاسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کو اختیار کر لینے والا خود کو بد ترین ہلاکت میں ڈال دیتا ہے کیونکہ اگر یہ مُرتَد ہونے والا صحیح توبہ کئے بغیر اسی کفر کی حالت میں مر گیا تو اسے ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا، چنانچہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَکَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِۚ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابو سعود، الحج، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴/۱۸، ملخصاً۔