Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
429 - 695
نہیں کیا گیا لہٰذا کسی شرعی دلیل کے بغیر انہیں حرام کہنا اور اس پر شرک کے فتوے لگانا ہر گز درست نہیں ۔اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾ وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ حَلٰـلًا طَیِّبًا ۪ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤْمِنُوۡنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو!ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللّٰہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللّٰہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اور جو کچھ تمہیں اللّٰہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اوراس اللّٰہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
	اور حضرت سلمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’حلال وہ ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے۔(2)
{فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ:پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو۔} ارشاد فرمایا کہ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہوجن کی پوجا کرنا بدترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ یہاں جھوٹی بات سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اپنی طرف سے چیزوں کوحلال اور حرام کہنا ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی دینا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹ اور بہتان ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد دورِ جاہلیّت میں تَلْبِیَہ میں ایسے الفاظ ذکر کرنا جن میں اللّٰہ تعالیٰ کے لئے شریک کا ذکر ہو۔(3)
 جھوٹی گواہی دینے اورجھوٹ بولنے کی مذمت پر4اَحادیث:
	آیت کی مناسبت سے یہاں جھوٹی گواہی دینے اورجھوٹ بولنے کی مذمت پر مشتمل4اَحادیث ملاحظہ ہوں:
(1)…حضرت خریم بن فاتک اسدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صبح کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مائدہ:۸۷،۸۸۔
2…ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء، ۳/۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲۔
3…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۸/۲۲۳۔