Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
428 - 695
کی بے حرمتی ہوئی (تو) یزید ہلاک ہوا (اور) اس کی سلطنت ختم ہوگئی۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کی جائے:
	اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں اور جن مقامات کو اللّٰہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے ان کی تعظیم کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والا نقصان اٹھاتا اور تباہ وبرباد ہو جاتا ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے اور ان کی بے حرمتی کرنے سے بچے نیز جن ہستیوں کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں قرب و شرف عطا فرما کر عزت و عظمت سے نوازا ہے جیسے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْوغیرہ،ان کی اور ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی تعظیم کرے اور کسی طرح ان کی بے ادبی نہ کرے ۔
{وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ:اور تمہارے لیے تمام جانور حلال کئے گئے ۔} آیت کے اس حصے کا معنی یہ ہے کہ قرآن پاک میں جن جانوروں کا حرام ہونا تمہارے سامنے بیان کیا جاتاہے ان کے علاوہ تمام جانور تمہارے لئے حلال ہیں ، تم انہیں شرعی طریقے سے ذبح کر کے کھا سکتے ہو لہٰذا تم اللّٰہ تعالیٰ کی حدوں کی حفاظت کرو اور اس نے جو چیز حلال فرمائی اسے حرام قرار نہ دو جیساکہ بعض لوگ بَحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دیتے ہیں ،اسی طرح جس چیز کو اللّٰہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اسے حلال قرار نہ دو جیساکہ بعض لوگ دھاری دار چیز کی چوٹ کے بغیر مارے ہوئے اور مردہ جانور کا گوشت کھانے کو حلال کہتے ہیں۔(2)
	نوٹ: حرام جانوروں سے متعلق تفصیلی بیان سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 3 کی تفسیر میں گزر چکا ہے، وہاں سے اس کا مطالعہ فرمائیں۔
اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی طرف منسوب جانوروں کا شرعی حکم:
	یاد رہے کہ جن جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی طرف منسوب کیا جائے اور انہیں ذبح شرعی طریقے کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی حلال ہیں اور قرآن و حدیث میں کہیں بھی ایسے جانوروں کا حرام ہونا بیان 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مراۃ المناجیح، باب حرم مکہ حرسہا اللّٰہ تعالیٰ، تیسری فصل، ۴/۲۴۲-۲۴۳، تحت الحدیث: ۲۶۰۵۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۷۳۸۔