ترجمۂکنزُالعِرفان: حکمِ الٰہی یہ ہے اور جو اللّٰہ کی حرمت والی چیزوںکی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے اور تمہارے لیے بے زبان چوپائے حلال کئے گئے سوائے ان کے جن کا (حرام ہونا) تمہارے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔
{وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ: اور جو اللّٰہ کی حرمت والی چیزوںکی تعظیم کرے۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اُس کے لئے بہتر ہے کہ اِس پر اللّٰہ تعالیٰ اُسے آخرت میں ثواب عطا فرمائے گا۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کے اَحکام ہیں خواہ وہ حج کے مَناسِک ہوں یا ان کے علاوہ اور احکام ہوں اوران کی تعظیم سے مراد یہ ہے کہ جو کام کرنے کا اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا وہ کئے جائیں اورجن کاموں سے منع کیا انہیں نہ کیا جائے ۔ دوسراقول یہ ہے کہ یہاں حرمت والی چیزوں سے حج کے مناسک مراد ہیں اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ حج کے مناسک پورے کئے جائیں اور انہیں ان کے تمام حقوق کے ساتھ ادا کیا جائے ۔تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے وہ مقامات مراد ہیں جہاں حج کے مناسک ادا کئے جاتے ہیں جیسے بیت ِحرام ، مَشْعَرِ حرام، بلد ِحرام اور مسجد ِحرام وغیرہ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی جائے۔(2)
مکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرنے والے کا انجام:
حضرت عیاش بن ابو ربیعہ مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت کے لوگ (تب تک) ہمیشہ بھلائی پر ہوں گے جب تک وہ مکہ کی تعظیم کاحق ادا کرتے رہیں گے اور جب وہ اس حق کوضائع کردیں گے توہلاک ہوجائیں گے۔(3)
مفتی احمد یار خان نعیمیرَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں ’’تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جس بادشاہ نے کعبہ معظمہ یا حرم شریف کی بے حرمتی کی ، ہلاک و برباد ہوگیا، یزید پلید کے زمانہ میں جب حرم شریف
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…البحر المحیط، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶/۳۳۹، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶/۲۹، ملتقطاً۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۷۳۸، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۳۰۷، ملتقطاً۔
3…سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب فضل مکّۃ، ۳/۵۱۹، الحدیث: ۳۱۱۰۔