پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے اُس دن گناہوں سے پاک تھاجب وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حج کیا اور (حج کے دوران) کوئی فحش کلام کیا نہ فسق کیا تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو کر لوٹے گا جیسے اُس دن تھا جب وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔(1)
اور حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’حج و عمرہ محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے ، چاندی اور سونے کے میل کو دور کردیتی ہے اور حج ِمَبْرُور کا ثواب جنت ہی ہے۔(2)
اور دُنْیَوی فائدہ یہ ہے کہ حج کے دنوں میں لوگ تجارت کر کے مالی نفع بھی حاصل کرتے ہیں ۔
{وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوۡمٰتٍ:اور معلوم دنوں میں اللّٰہ کے نام کو یاد کریں۔} اللّٰہ تعالیٰ کا نام یاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حج کرنے والوں کو جوبے زبان مویشیوں اونٹ ، گائے ، بکری اور بھیڑ کے ذریعے رزق دیا انہیں ذبح کرتے وقت وہ ان پر اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیں۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حج کرنے والوں کو جو بے زبان مویشیوں اونٹ ، گائے ، بکری اور بھیڑ سے رزق دیا اس نعمت پر وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کریں اور اس کی پاکی بیان کریں ۔ معلوم دنوں سے کیا مراد ہے ا س کے بارے میں دو قول ہیں ۔ (1) ان سے ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں۔ یہ حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عبداللّٰہ بن عباس ،حضرت حسن اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکا قول ہے اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مذہب ہے ۔ (2) معلوم دنوں سے قربانی کے دن مراد ہیں۔ یہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا قول ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا بھی اسی کے قائل ہیں۔(3)
{فَکُلُوۡا مِنْہَا:تو تم ان سے کھاؤ ۔} دورِ جاہلیّت میں کفار حج کے موقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ان کا گوشت خود نہیں کھاتے تھے ، اس آیت میں ان کا رد کیا گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم حج کے دنوں میں جو جانور ذبح کرو اس کا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بخاری، کتاب الحج، باب فضل الحجّ المبرور، ۱/۵۱۲، الحدیث: ۱۵۲۱۔
2…سنن ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فی ثواب الحجّ والعمرۃ، ۲/۲۱۸، الحدیث: ۸۱۰۔
3…البحر المحیط، الحج ، تحت الآیۃ : ۲۸ ، ۶/۲۳۸ ، تفسیرات احمدیہ ، الحج ، تحت الآیۃ : ۲۸ ، ص۵۳۱، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۷۳۷، ملتقطاً۔