گوشت خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیروں کو بھی کھلاؤ۔(1)
حَرم میں کی جانے والی قربانی سے متعلق4شرعی مسائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے حرم میں کی جانے والی قربانی سے متعلق 4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں
(1)…ہَدی اُس جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کے لیے حرم کو لے جایا جائے۔ یہ تین قسم کے جانور ہیں: (۱) بکری۔ اس میں بھیڑ اور دنبہ بھی داخل ہے۔ (۲) گائے۔ بھینس بھی اسی میں شمار ہے۔ (۳) اونٹ۔
(2)…قربانی کے جانور میں جو شرطیں ہیں وہ ہدی کے جانور میں بھی ہیں مثلاً اونٹ پانچ سال کا، گائے دوسال کی، بکری ایک سال کی مگر بھیڑ اور دُنبہ چھ مہینے کا اگر سا ل بھر والی بکری کی مثل ہو تواس کی قربانی ہو سکتی ہے اور اونٹ گائے میں یہاں بھی سات آدمیوں کی شرکت ہوسکتی ہے۔
(3)…ہَدی یعنی قربانی کے لیے حرم میں لے جایا جانے والا جانور اگر حجِ قِران یا تَمَتُّع کی قربانی کا ہو تو قربانی کرنے کے بعد اس کے گوشت میں سے کچھ کھا لینا بہتر ہے، اسی طرح اگر قربانی نفلی ہو اور جانور حرم میں پہنچ گیا ہو تو اس کا گوشت بھی کھا سکتا ہے البتہ اگر جانور حرم میں نہ پہنچا تو اس کا گوشت خود نہیں کھا سکتا بلکہ اب وہ فُقرا کا حق ہے۔ اگر وہ جانور حج قران ، تمتع اور نفلی قربانی کے علاوہ کسی اور جیسے کَفّارے کی قربانی کے لئے ہو تو ا س کا گوشت خود نہیں کھا سکتا اور جس قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا خود کھا سکتا ہے وہ مالداروں کو بھی کھلا سکتا ہے اور جس کا گوشت خود نہیں کھا سکتا وہ نہ مالداروں کو کھلا سکتا اور نہ ہی ا س کی کھال وغیرہ سے نفع لے سکتا ہے۔
(4)…ہَدی کا گوشت حرم کے مسکینوں کو دینا بہتر ہے، اس کی نکیل اور جھول کو خیرات کردیں اور قصاب کو اس کے گوشت میں سے کچھ نہ دیں۔ ہاں اگر اُسے صدقہ کے طور پر کچھ گوشت دیں تو ا س میں حرج نہیں۔(2)
نوٹ: ہدی سے متعلق مزید شرعی مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت جلد 1 حصہ 6 سے ’’ہدی کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
ثُمَّ لْیَقْضُوۡا تَفَثَہُمْ وَلْیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوۡا بِالْبَیۡتِ الْعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرات احمدیہ، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۵۳۲، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۷۳۷، ملتقطاً۔
2…بہار شریعت، حصہ ششم، ہدی کا بیان، ۱/ ۱۲۱۳-۱۲۱۴،ملخصاً۔