Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
423 - 695
{یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا:وہ تمہارے پاس پیدل آئیں گے ۔} یعنی جب آپ لوگوں میں حج کا اعلان کریں گے تو لوگ آپ کے پاس پیدل اور ہر دبلی اونٹنی پرسوار ہوکرآئیں گے جو دور کی راہ سے آتی ہیں اور کثیر سفر کرنے کی وجہ سے دبلی ہو جاتی ہے۔(1)
پیدل حج کرنے کے فضائل:
	اس آیت میںحج کے لئے پیدل آنے والوں کا پہلے ذکر کیا گیا ،اس سے معلوم ہو اکہ پیدل حج کرنا بہت فضیلت کا باعث ہے ۔اسی مناسبت سے یہاں مکہ مکرمہ سے پیدل حج کرنے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں:
(1)… حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مکہ سے پیدل حج شروع کیا حتّٰی کہ (حج مکمل کرکے) مکہ لوٹ آیا تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں لکھے گا۔ عرض کی گئی : حرم کی نیکیاں کیا ہیں ؟ ارشاد فرمایا ’’ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں۔(2)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’سوار ہو کر حج کرنے والے کے لئے ہر اس قدم کے بدلے میں ستر نیکیاں ہیں جو ا س کی سواری چلے اور پیدل حج کرنے والے کے لئے ہر قدم کے بدلے حرم کی نیکیوں میں سے سات سو نیکیاں ہیں۔ کسی نے عرض کی:یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا ’’ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔(3)
{لِیَشْہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمْ:تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں۔} اس سے پہلی آیات میں حج کرنے کا حکم دیا گیا اور اب اس حکم کی حکمت بیان کی جارہی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو حج کے لئے بلائیں تاکہ وہ حج کر کے اپنے دینی اور دُنْیَوی دونوں طرح کے وہ فوائد حاصل کریں جو اس عباد ت کے ساتھ خاص ہیں ، دوسری عبادت میں نہیں پائے جاتے۔(4) 
حج کا دینی اور دُنْیَوی فائدہ:
	حج کرنے والے کو دینی فائدہ تو یہ حاصل ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے اور وہ گناہوں سے ایسے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۳۰۵-۳۰۶۔
2…مستدرک، اول کتاب المناسک، فضیلۃ الحجّ ماشیاً، ۲/۱۱۴، الحدیث: ۱۷۳۵۔
3…مسند البزار، مسند ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما، ۱۲/۳۱۳، الحدیث: ۵۱۱۹۔
4…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ۸/۲۲۰، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۷۳۷۔