Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
422 - 695
وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ﴿ۙ۲۷﴾ لِّیَشْہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الْاَنْعَامِۚ فَکُلُوۡا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیۡرَ ﴿۫۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دُبلی اونٹنی پر کہ ہر دُور کی راہ سے آتی ہیں ۔تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں اور اللّٰہ کا نام لیں جانے ہوئے دنوں میں اس پر کہ انہیں روزی دی بے زبان چوپائے تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ     محتاج کو کھلاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کردو ، وہ تمہارے پاس پیدل اور ہر دبلی اونٹنی پر(سوار ہوکر) آئیں گے جوہر دور کی راہ سے آتی ہیں۔ تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں اور معلوم دنوں میں اللّٰہ کے نام کو یاد کریں اس بات پر کہ اللّٰہ نے انہیں بے زبان مویشیوں سے رزق دیا تو تم ان سے کھاؤ اور مصیبت زدہ     محتاج کو کھلاؤ۔
{وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ:اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کردو ۔} کعبہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوحکم دیا گیا کہ اب لوگوں کومیرے گھرآنے کی دعوت دو، چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہان کے لوگوں کو ندا کردی کہ بیتُ اللّٰہ کا حج کرو ۔ جن کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا انہوں نے اپنے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا ’’لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ‘‘ یعنی میں حاضر ہوں، اے اللّٰہ! میں حاضر ہوں۔ حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ اس آیت ’’اَذِّنۡ‘‘ میں رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خطاب ہے ،چنانچہ حجۃ الوداع میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اعلان کردیا اور ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر حج فرض کیا تو حج کرو۔(1)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۷۳۶، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۳۰۵، ملتقطاً۔