تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا اور اس سے کوڑاکرکٹ نکالنا حورِ عِین کے مہر ہیں۔(1)
(2)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے مسجد سے اَذِیَّت دینے والی چیز (جیسے مٹی ،کنکر ) نکالی تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔(2)
(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :ایک عورت مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی، اس کا انتقال ہو گیا اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اسے دفن کرنے کی اطلاع نہ دی گئی توآپ نے ارشاد فرمایا ’’جب تم میں کسی کا انتقال ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دیا کرو، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس عورت پر نماز پڑھی اور فرمایا ’’میں نے اسے جنت میں دیکھا ہے کیونکہ وہ مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی(3)۔(4)
مسجد کا متولّی کیساہونا چاہئے؟
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد کا متولی نیک آدمی ہونا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’متولی بننے کے لائق وہ ہے جو دیانت دار، کام کرنے والا اور ہوشیار ہو۔ اس پر وقف کی حفاظت اور خیر خواہی کے معاملے میں کافی اطمینان ہو۔ فاسق نہ ہو کہ اس سے نفسانی خواہش یا بے پرواہی یا حفاظت نہ کرنے یا لَہْو ولَعب میں مشغول ہونے کی وجہ سے وقف کو نقصان پہنچانے یاپہنچنے کا اندیشہ ہو۔ بد عقل ، عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت، نادانی ، کام نہ کر سکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کردے۔ فاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار ،کام کرنے والا اور مالدار ہو ہر گز متولی بننے کے لائق نہیں کہ جب وہ شریعت کی نافرمانی کی پرواہ نہیں رکھتا تو کسی دینی کام میں ا س پر کیا اطمینان ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ حکم ہے کہ وقف کرنے والا اگر خود فسق کرے تو واجب ہے کہ وقف اس کے قبضے سے نکال لیا جائے اور کسی امانت دار اور دیانت دار کو سپرد کیا جائے۔(5)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معجم الکبیر، مسند جندرۃ بن خیشنۃ، ۳/۱۹، الحدیث: ۲۵۲۱۔
2…ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب تطہیر المساجد وتطییبہا، ۱/۴۱۹، الحدیث: ۷۵۷۔
3…معجم الکبیر، عکرمۃ عن ابن عباس، ۱۱/۱۹۰، الحدیث: ۱۱۶۰۷۔
4…مسجد کی صفائی ستھرائی سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے ’’مسجدیں صاف رکھئے‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ مفید ہے۔
5…فتاوی رضویہ، ۱۶/۵۵۷،ملخصاً۔