موجود تھی اور ایک قول یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جو خاص زمین کے اس حصے کے اوپر تھا جہاں پہلے کعبہ معظمہ کی عمارت تھی، اس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو کعبہ شریف کی جگہ بتائی گئی اور آپ نے اس کی پرانی بنیاد پر کعبہ شریف کی عمارت تعمیر کی ۔(1)
{اَنۡ لَّا تُشْرِکْ بِیۡ شَیْـًٔا:اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔} کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کیلئے شرک سے ، بتوں سے اور ہر قسم کی نجاستوں سے خوب صاف ستھرا رکھو۔(2)
انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامشرک سے پاک ہیں:
یاد رہے کہ انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک آن کے لئے بھی شرک نہیں کرتے، وہ شرک سے پاک ہیں اور گناہوں سے بھی معصوم ہیں اور اس آیت میں جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا گیا کہ ’’ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو‘‘اس سے یہ مراد نہیں کہ آپ مَعَاذَاللّٰہ شرک میں مبتلا تھے اور اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو ا س سے منع فرمایا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنا یا اس سے مراد یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے ساتھ کوئی دوسری غرض نہ ملانا۔(3)
مسجد تعمیر کرنے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کے فضائل:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسجد تعمیر کرنا، اسے صاف ستھرا رکھنا اور اس کی زینت کرنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں مسجد تعمیر کرنے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کے تین فضائل ملاحظہ ہوں۔
(1)…حضرت ابو قرصافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسجدیں تعمیر کرو اور ان سے کوڑا کرکٹ نکالو، پس جس نے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائی اللّٰہ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۷۳۶، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۳۰۵، ملتقطاً۔
2…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۳۰۵۔
3…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۲۶، ۸/۲۱۹۔