Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
419 - 695
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ جو تجھے قتل نہ کرے تو اسے قتل کرے یا جو تجھ پر ظلم نہ کرے تو اس پر ظلم کرے۔(1)
	شانِ نزول: حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے عبداللّٰہ بن اُنیس (بن خطل) کو دو آدمیوں کے ساتھ بھیجا تھا جن میں ایک مہاجر تھا دوسرا انصاری ، ان لوگوں نے اپنے اپنے نسب کی فخریہ باتیں بیان کیں تو عبداللّٰہ بن اُنیس کو غصہ آیا اور اس نے انصاری کو قتل کر دیا اور خود مُرتَد ہو کر مکہ مکرمہ کی طرف بھاگ گیا ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔(2)
وَ اِذْ بَوَّاۡنَا لِاِبْرٰہِیۡمَ مَکَانَ الْبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشْرِکْ بِیۡ شَیْـًٔا وَّ طَہِّرْ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الْقَآئِمِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا صحیح مقام بتا دیا اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کیلئے خوب صاف ستھرا رکھو۔
{وَ اِذْ بَوَّاۡنَا لِاِبْرٰہِیۡمَ مَکَانَ الْبَیۡتِ:اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو اس گھرکا صحیح مقام بتادیا۔} کعبہ معظمہ کی عمارت پہلے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنائی تھی اور جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم پر طوفان آیا تو اس وقت وہ آسمان پر اٹھا لی گئی۔ پھر جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکعبہ شریف کی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس کا مقام بتانے کے لئے ایک ہوا مقرر کی جس نے اس کی جگہ کو صاف کر دیا جہاں پہلے کعبہ معظمہ کی عمارت
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۳۰۵۔
2…درمنثور، الحج، تحت الآیۃ: ۲۵، ۶/۲۷۔