Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
418 - 695
ارادہ کرے گا توہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے ۔
{اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا:بیشک جنہوں نے کفر کیا۔} شانِ نزول:یہ آیت سفیان بن حرب وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا تھا ، اس پر ارشاد فرمایا کہ ’’بیشک انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا جنہوں نے کفر کیا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت سے اور اس مسجد ِحرام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے عبادت گاہ بنایا ہے اور اس میں وہاں کے رہنے والوں اور دور سے آنے والوں کا حق برابر ہے۔(1)
{وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ:اور مسجد ِحرام۔} مفسرین فرماتے ہیں کہ اگر یہاں آیت میں مسجد ِحرام سے خاص کعبہ معظمہ مراد ہو جیسا کہ امام شافعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا فرمان ہے تواس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ مسجد ِحرام تمام لوگوں کا قبلہ ہے اوراس کی طرف منہ کرنے میں وہاں کے رہنے والے اور پردیسی سب برابر ہیں ، سب کے لئے اس کی تعظیم و حرمت اور اس میں حج کے ارکان کی ادائیگی یکساں ہے اور طواف و نماز کی فضیلت میں شہری اور پردیسی کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ اور اگر اس آیت میں مسجد ِحرام سے مکہ مکرمہ یعنی پورا حرم مراد ہو جیسا کہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمان ہے تواس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ حرم شریف شہری اور پردیسی سب کے لئے برابر ہے ، اس میں رہنے اور ٹھہرنے کا سب کو حق حاصل ہے جبکہ کوئی کسی کو اس کے گھر سے نکالے نہیں۔ اسی لئے امامِ اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ مکرمہ کی زمینوں کو بیچنے اور ان کا کرایہ حاصل کرنے کو منع فرماتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مکہ مکرمہ حرم ہے ،اس کی زمینیں فروخت نہ کی جائیں۔(2)
{وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ:اور جو اس میں ناحق کسی زیادتی کا ارادہ کرے گا۔} مسجد ِحرام میں ناحق زیادتی سے کیا مراد ہے ا س کے بارے میں مفسرین کے چند اَقوال ہیں ۔(1) اس سے شرک و بت پرستی مراد ہے ۔ (2) اس سے ہر ممنوع قول اور فعل مراد ہے حتّٰی کہ خادم کو گالی دینا بھی اس میں داخل ہے ۔ (3) اس سے حرم میں اِحرام کے بغیر داخل ہونا یا حرم کے مَمنوعات کا اِرتکاب کرنا جیسے شکار مارنا اور درخت کاٹنا وغیرہ مراد ہے۔ (4) حضرت عبداللّٰہ بن عباس
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرات احمدیہ، الحج، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۵۲۸۔
2…تفسیرات احمدیہ، الحج، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۵۲۸، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۳۰۴-۳۰۵، ملتقطاً۔