جلال اور اس کی کبریائی کا اندازہ ہو جائے اور لوگ اس سے ڈرتے رہیں اور ا س کے خوف کی وجہ سے گناہوں سے باز رہیں۔(1) افسوس! آج لوگوں کے دل کی سختی کا یہ حال ہے کہ قرآنِ مجید میں جہنم کے انتہائی دردناک عذابات کے بارے میں پڑھنے کے باوجود ان سے ڈرتے نہیں اور بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ گناہوں میں مصروف ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔
اِنَّ اللہَ یُدْخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیۡہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ؕ وَلِبَاسُہُمْ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۲۳﴾ وَہُدُوۡۤا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِۚۖ وَ ہُدُوۡۤا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیۡدِ ﴿۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللّٰہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔ اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت کی گئی اور سب خوبیوں سراہے کی راہ بتائی گئی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ ایمان والوں کو اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور جنتوں میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔ اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت دی گئی اور انہیں تمام تعریفوں کے لائق (اللّٰہ) کا راستہ دکھایا گیا۔
{اِنَّ اللہَ یُدْخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:بیشک اللّٰہ ایمان والوں کو داخل فرمائے گا ۔}اس سے پہلی آیات میں کفار کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا اور اب یہاں سے قیامت کے دن ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر ہونے والے انعامات بیان کئے جا رہے ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۲۲، ۶/۱۹۔