تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’انتہائی گرم پانی ان جہنمیوں کے سر پر ڈالا جائے گا تو وہ سَرایت کرتے کرتے ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا اور جو کچھ پیٹ میں ہو گا اسے کاٹ کر قدموں سے نکل جائے گا اور یہ صَہر (یعنی گل جانا) ہے ،پھر انہیں ویسا ہی کر دیا جائے گا (اور بار بار ان کے ساتھ ایساہی کیا جائے گا۔)(1)
اور حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا ’’کافروں پر ڈالا جانے والا پانی ایسا تیز گرم ہو گا کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر ڈال دیا جائے تو ان کو گلا ڈالے۔(2)
اللّٰہ تعالیٰ ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں جہنم کے ا س عذاب سے پناہ عطا فرمائے،اٰمین۔
وَلَہُمۡ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیۡدٍ ﴿۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں ۔
{وَلَہُمۡ:اور ان کے لیے۔} ارشاد فرمایا کہ جہنم میں کافروں کو عذاب دینے کے لئے لوہے کے گرز ہیں جن سے انہیں مارا جائے گا۔(3)
جہنم کے گُرز:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ جہنم میں جن گرزوں سے مار اجائے گا وہ لوہے کے ہیں، ان کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر وہ لوہے کا گرز زمین پررکھا جائے پھر جنّ واِنس سب جمع ہوجائیں تواسے زمین سے نہ اٹھاسکیں گے۔(4)
اور دوسری روایت میں ہے کہ اگر وہ گرز پہاڑ پر مارا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے۔ (گرز لگنے کے بعد) پھر
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…سنن ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، ۴/۲۶۲، الحدیث: ۲۵۹۱۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۷۳۵۔
3…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۲۱، ۶/۱۸۔
4…مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ، ۴/۵۸، الحدیث: ۱۱۲۳۳۔