Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
412 - 695
میں مبتلا رہے کہ چاہے ہم جوکچھ کرتے رہیں کتنے ہی اَعمالِ سیاہ سے اپنااعمال نامہ بھردیں اور کردار اور سیرت کتنی ہی داغدار نہ کرلیں ساری زندگی عزت کے ساتھ ہی رہیں گے، ایسانہیں ہے بلکہ جواپنے آپ کواس نعمت عظمیٰ کا اہل ثابت کردیتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسے عزت دیتا ہے اور جو مسلسل نافرنیوں میں مبتلا رہتا ہے وہ ذلت کے عمیق گڑھے میں گرا دیا جاتا ہے ۔
ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمْ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوْقِ رُءُوۡسِہِمُ الْحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾ یُصْہَرُ بِہٖ مَا فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ وَالْجُلُوۡدُ ﴿ؕ۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونتے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے وہ سب اور ان کی کھالیں جل جائیں گی۔
{ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ:یہ دو فریق ہیں۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مومنین اور پانچوں قسم کے کفار جن کا اوپر ذکر کیا گیا ،یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے دین اور ا س کی ذات و صفات کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو وہ لوگ جو کافر ہیں انہیں ہر طرف سے آگ گھیر لے گی اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں چربی وغیرہ ہے وہ سب اور ان کی کھالیں جل جائیں گی۔(1)
جہنم میں کفار پر ڈالے جانے والے پانی کی کَیْفِیَّت:
	جہنم میں کفار پر ڈالے جانے والے پانی کی کچھ کیفیت ان آیات میں بیان ہوئی اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰، ص۲۸۱۔